ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 78

قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَا الۡعَزِیۡزُ اِنَّ لَہٗۤ اَبًا شَیۡخًا کَبِیۡرًا فَخُذۡ اَحَدَنَا مَکَانَہٗ ۚ اِنَّا نَرٰىکَ مِنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۷۸﴾
انھوں نے کہا اے عزیز! بے شک اس کا ایک بڑا بوڑھا باپ ہے، سو توہم میں سے کسی کو اس کی جگہ رکھ لے، بے شک ہم تجھے احسان کرنے والوں سے دیکھتے ہیں۔ En
وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں
En
انہوں نے کہا کہ اے عزیز مصر! اس کے والد بہت بڑی عمر کے بالکل بوڑھے شخص ہیں۔ آپ اس کے بدلے ہم میں سے کسی کو لے لیجئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ بڑے نیک نفس ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت78) {قَالُوْا يٰۤاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا …:} اس کا باپ بہت بوڑھا ہے، وہ اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکے گا، پہلے بھی آپ نے ہم پر بہت سے احسان کیے ہیں، بس اب اتنا احسان اور کر دیں کہ ہم میں سے کسی ایک کو اس کے بجائے رکھ لیں، امید ہے کہ آپ ہمیں اپنے کرم سے مایوس نہیں کریں گے۔