انھوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو بے شک اس سے پہلے اس کے ایک بھائی نے بھی چوری کی تھی۔ تو یوسف نے اسے اپنے دل میں پوشیدہ رکھا اور اسے ان کے لیے ظاہر نہیں کیا، کہا تم مرتبے میں زیادہ برے ہو اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو تم بیان کرتے ہو۔
En
(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے
انہوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی (تو کوئی تعجب کی بات نہیں) اس کابھائی بھی پہلے چوری کر چکا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل میں رکھ لیا اور ان کے سامنے بالکل ﻇاہر نہ کیا۔ کہا کہ تم بدتر جگہ میں ہو، اور جو تم بیان کرتے ہو اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے
En
(آیت77) ➊ { فَقَدْسَرَقَاَخٌلَّهٗمِنْقَبْلُ:} ان کا یہ اشارہ یوسف علیہ السلام کی طرف تھا، پہلے کہہ چکے تھے: «{ مَاكُنَّاسٰرِقِيْنَ }» کہ ہم کبھی چور نہیں تھے، لیکن اب جو دیکھا کہ چھوٹے بھائی کے پاس سے چوری کا مال نکل آیا ہے تو اپنی خفت مٹانے اور اپنی پاک بازی ظاہر کرنے کے لیے فوراً اپنے آپ کو اس بھائی سے الگ کر لیا اور اس کے جرم کو بہانہ بنا کر اس کے بھائی پر بھی چوری کی جھوٹی تہمت لگا دی۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کے گم ہو جانے کے بعد اس بھائی کے ساتھ یہ بھائی کیا سلوک کرتے رہے ہوں گے؟ یہاں مفسرین نے اسرائیلی روایات سے بچپن میں یوسف علیہ السلام کی چوری کے کچھ واقعات لکھے ہیں، جن کا قرآن و حدیث میں کوئی ذکر نہیں اور جن سے یوسف علیہ السلام بالکل پاک ہیں، پھر یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے کہنے پر یوسف علیہ السلام کی چوری کے واقعات کی تلاش تو تب کی جائے جب برادران یوسف نے کبھی جھوٹ نہ بولا ہو، باپ کے پاس جھوٹ بولنے سے لے کر یہاں اپنے تمام بھائیوں کی قسم دے کر کہ ہم میں سے کبھی کوئی چور نہیں رہا، فوراً ہی مدت سے گم شدہ بھائی پر بھی چوری کا بہتان لگا دیا اور ہمارے بعض مفسرین کو فکر ہے کہ ان بھائیوں کے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے یوسف علیہ السلام کی کوئی نہ کوئی چوری ضرور ڈھونڈ نکالی جائے۔ [إِنَّالِلّٰہِوَإِنَّاإِلَیْہِرَاجِعُوْنَ] ➋ { فَاَسَرَّهَايُوْسُفُفِيْنَفْسِهٖوَلَمْيُبْدِهَالَهُمْ:} کیونکہ اگر ظاہر کرتے تو وہ سمجھ لیتے کہ یہی یوسف ہے اور ابھی یہ راز کھولنے کا وقت نہ آیا تھا۔ اتنے اونچے مقام پر ہونے کے باوجود اتنی تلخ تہمت کو دل میں چھپا کر صبر کرنا یوسف علیہ السلام ہی کا حوصلہ ہے۔ ➌ { قَالَاَنْتُمْشَرٌّمَّكَانًا:} یعنی یوسف نے چوری کی ہو یا نہ کی ہو مگر تمھارے چور ہونے میں کوئی شبہ نہیں، کیونکہ تم نے اسے باپ سے چرا کر کنویں میں پھینک دیا۔ مزید یہ غضب ڈھا رہے ہو کہ الٹا اپنے آپ کو پاک باز اور یوسف کو چور بتاتے ہو؟ ➍ { وَاللّٰهُاَعْلَمُبِمَاتَصِفُوْنَ:} یعنی تم جو یوسف پر چوری کا الزام لگا رہے ہو اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے، تم جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکا دے سکتے ہو مگر اللہ تعالیٰ کو دھوکا نہیں دے سکتے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔