ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ هود (11) — آیت 79

قَالُوۡا لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِیۡ بَنٰتِکَ مِنۡ حَقٍّ ۚ وَ اِنَّکَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِیۡدُ ﴿۷۹﴾
انھوں نے کہا بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں اور بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے ہم کیا چاہتے ہیں۔ En
وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں۔ اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو
En
انہوں نے جواب دیا کہ تو بخوبی جانتا ہے کہ ہمیں تو تیری بیٹیوں پر کوئی حق نہیں ہے اور تو ہماری اصلی چاہت سے بخوبی واقف ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 79){قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِيْ بَنٰتِكَ …:} یعنی ہمارا تمھاری بیٹیوں میں کوئی حق نہیں(گویا آنے والے مہمان مردوں سے بدفعلی ان کا پورا حق ہے)، یا یہ مطلب ہے کہ ہمیں عورتوں یا بیویوں سے کوئی دلچسپی نہیں، ہم جو چاہتے ہیں وہ تجھے معلوم ہی ہے کہ ہم کس بدفعلی کے عادی ہیں، اس لیے تم ہماری راہ میں رکاوٹ نہ بنو۔ ان کے اس جواب سے ان کی خباثت کا پورا نقشہ سامنے آ جاتا ہے اور صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ کیوں ان کو اس عذاب کا مستحق سمجھا گیا جو ان کے علاوہ کسی قوم پر نازل نہیں کیا گیا۔