ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ هود (11) — آیت 33

قَالَ اِنَّمَا یَاۡتِیۡکُمۡ بِہِ اللّٰہُ اِنۡ شَآءَ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿۳۳﴾
اس نے کہا وہ تو تم پر اللہ ہی لائے گا،اگر اس نے چاہا اور تم ہرگز عاجز کرنے والے نہیں۔ En
نوح نے کہا کہ اس کو خدا ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔ اور تم (اُس کو کسی طرح) ہرا نہیں سکتے
En
جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ ہی ﻻئے گا اگر وه چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 34،33) نوح علیہ السلام نے جواب میں کسی تلخی کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ اپنی اور اللہ تعالیٰ کی حیثیت واضح فرمائی کہ عذاب لانا یا نہ لانا میرا کام نہیں، یہ تو اللہ کا اختیار ہے۔ وہ اگر چاہے گا تو تم پر عذاب لے آئے گا، پھر تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نکل نہیں سکو گے اور جس طرح کائنات کا ایک ذرہ بھی اللہ کی مرضی کے بغیر حرکت یا سکون میں نہیں آ سکتا، انسان ہدایت اور گمراہی کی ایک حد تک اختیار رکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ارادے اور اس کی توفیق کے بغیر پیغمبر کی خیر خواہی اور نصیحت سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔