ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ هود (11) — آیت 26

اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ اَلِیۡمٍ ﴿۲۶﴾
کہ تم اللہ کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ بے شک میں تم پر ایک درد ناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ En
کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہاری نسبت عذاب الیم کا خوف ہے
En
کہ تم صرف اللہ ہی کی عبادت کرو، مجھے تو تم پر دردناک دن کے عذاب کا خوف ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26){اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ …:} یہی ہر رسول کی دعوت تھی اور یہی سب کی بعثت کا مقصد تھا، فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ [الأنبیاء: ۲۵] اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔ میں تم پر دردناک عذاب سے ڈرتا ہوں کے بجائے فرمایا: دردناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ یہ زیادہ ڈرانے کے لیے فرمایا کہ وہ عذاب اتنا دردناک ہے کہ جس دن وہ آئے گا وہ دن ہی سرا سر الم والا، یعنی نہایت دردناک ہو گا۔ یہی بات اس سورت کی آیت (۳) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔