(آیت 24) {مَثَلُالْفَرِيْقَيْنِكَالْاَعْمٰىوَالْاَصَمِّوَالْبَصِيْرِوَالسَّمِيْعِ …:} مثال سے کسی چیز کی تصویر سامنے آجاتی ہے اور اس کا سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مومن دیکھنے اور سننے والا ہوتا ہے اور کافر اندھا اور بہرا ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی ضد اور خلاف ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں کہ سیدھے راستے پر اندھا بہرا شخص کیسے چل سکتا ہے، جو نہ خود راستہ دیکھے، نہ بتانے سے سنے۔ اسی لیے کفار کہیں گے: «{لَوْكُنَّانَسْمَعُاَوْنَعْقِلُمَاكُنَّافِيْۤاَصْحٰبِالسَّعِيْرِ }»[الملک: ۱۰]”اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی آگ والوں میں نہ ہوتے۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔