یقیناً جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے اور اپنے پالنے والے کی طرف جھکتے رہے، وہی جنت میں جانے والے ہیں، جہاں وه ہمیشہ ہی رہنے والے ہیں
En
(آیت 23) {اِنَّالَّذِيْنَاٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ …: ”اَخْبَتُوْۤا“”اِخْبَاتٌ“} کا معنی ہے جھکنا، عاجزی کرنا، مطمئن ہونا۔ جمل رحمہ اللہ نے فرمایا:{ ”اَخْبَتَلَهُ“ } کا معنی ہے {”خَشَعَوَخَضَعَلَهُ“} وہ اس کے سامنے عاجز ہو گیا اور{ ”اَخْبَتَاِلَيْهِ“ } کا معنی ہے {”اِطْمَئَنَّاِلَيْهِ“} کہ وہ اس کی طرف سے مطمئن ہو گیا۔ سب سے بڑے ظالموں، یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنے والے کفار و مشرکین کے بعد اب اہل ایمان کا تذکرہ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اعمال صالحہ کیے اور اپنے رب کے سامنے عاجز اور اس کی تقدیر اور فیصلے پر مطمئن ہو گئے وہ جنت کے مالک ہوں گے۔ ”اخبات“ والوں کی کچھ صفات سورۂ حج (۳۴، ۳۵، ۵۴) میں آئی ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں