ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ هود (11) — آیت 19

الَّذِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ یَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ؕ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۹﴾
جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں اور آخرت کے ساتھ کفر کرنے والے بھی وہی ہیں۔ En
جو خدا کے رستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہ آخرت سے بھی انکار کرتے ہیں
En
جو اللہ کی راه سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کر لیتے ہیں۔ یہی آخرت کے منکر ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19){الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ …:} یعنی اللہ کی سیدھی راہ (اسلام) میں کجی اور عیب ڈھونڈ کر لوگوں کو اس میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ { هُمْ } کی ضمیر دو بار لانے کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کا انکار کرنے میں یہ لوگ اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ گویا آخرت کے اصل منکر یہی ہیں۔ { يَبْغُوْنَهَا عِوَجًا } میں لام محذوف ہے، یعنی {يَبْغُوْنَ لَهَا عِوَجًا} جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا [الکہف:۱] یا { يَبْغُوْنَهَا عِوَجًا } میں { فِيْ} محذوف ہے، یعنی { يَبْغُوْنَ فِيْهَا عِوَجًا } جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن زمین کے متعلق فرمایا: «{ لَا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا [طٰہٰ: ۱۰۷]