ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ هود (11) — آیت 111

وَ اِنَّ کُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّہُمۡ رَبُّکَ اَعۡمَالَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۱۱﴾
اور بے شک ان سب کو جب (وقت آئے گا) تو یقینا تیرا رب انھیں ان کے اعمال ضرور پورے پورے دے گا، بے شک وہ اس سے جو وہ کر رہے ہیں، پوری طرح باخبر ہے۔ En
اور تمہارا پروردگار ان سب کو (قیامت کے دن) ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بےشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے
En
یقیناًان میں سے ہر ایک جب ان کے روبرو جائے گا تو آپ کا رب اسے اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بیشک وه جو کر رہے ہیں ان سے وه باخبر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 111) ➊ {وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ …: كُلًّا } میں تنوین عوض کی ہے، یعنی اس کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ اصل میں تھا { كُلُّهُمْ } یا { كُلُّ هٰؤُلَاءِ} (یہ سب لوگ) { لَمَّا } کا معنی جب ہے، یہ حرفِ شرط ہے جس کی شرط محذوف ہے۔ {لَيُوَفِّيَنَّهُمْ } اس کی جزا ہے۔ وہ محذوف شرط { لَمَّا } کے معنی کے مطابق نکالی جائے گی، یعنی { لَمَّا جَاءَ أَجَلُهُمْ} یعنی بے شک یہ سب لوگ (جب ان کا وقت آئے گا) تو یقینا انھیں ان کا رب ان کے اعمال کا ضرور پورا پورا بدلہ دے گا۔ چونکہ وہ لوگ قیامت کے منکر تھے، اس لیے اس جملے میں کئی طرح سے تاکید آئی ہے۔ { اِنَّ }، لام تاکید اور نون ثقیلہ۔ { لَمَّا } کا مابعد حذف کرنے سے بھی ایک ہیبت پیدا ہو رہی ہے، کیونکہ خود لفظ { لَمَّا } میں وقت کا مفہوم شامل ہے، یعنی جب وہ وقت آئے گا۔({ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا } کی یہ سب سے واضح اور آسان توجیہ ہے) دیکھیے تفسیر الشعراوی۔ تفسیر نسفی میں ہے: { قَالَ صَاحِبُ الْإِيْجَازِ لَمَّا فِيْهِ مَعْنَي الظَّرْفِ وَقَدْ دَخَلَ فِي الْكَلاَمِ اخْتِصَارٌ كَأَنَّهُ قِيْلَ وَإِنَّ كُلاًّ لَّمَّا بُعِثُوْا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ} مطلب وہی ہے جو اوپر گزرا، البتہ انھوں نے { لَمَّا جَاءَ أَجَلُهُمْ } کے بجائے { لَمَّا بُعِثُوْا } محذوف نکالا ہے۔
➋ {اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ: } اس میں اعمال کی جزا پوری پوری دینے کی وجہ بیان کی ہے کہ وہ ان کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے، اس لیے عمل نیک ہو یا بد اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔