ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ هود (11) — آیت 104

وَ مَا نُؤَخِّرُہٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعۡدُوۡدٍ ﴿۱۰۴﴾ؕ
اور ہم اسے مؤخر نہیں کر رہے، مگر ایک گنے ہوئے وقت کے لیے۔ En
اور ہم اس کے لانے میں ایک وقت معین تک تاخیر کر رہے ہیں
En
اسے ہم جو ملتوی کرتے ہیں وه صرف ایک مدت معین تک ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 104) {وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ: مَعْدُوْدٍ } کا معنی ہے گنا ہوا۔ گنی ہوئی چیز آخر ختم ہو جاتی ہے، یعنی قیامت کی مہلت گنتی کے چند دن ہیں، جیسے روزوں کے متعلق فرمایا: «{ اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ [البقرۃ: ۱۸۴] گنے ہوئے چند دنوں میں۔ اور وہ گنتی صرف اللہ کے علم میں ہے، قیامت نہ اس سے پہلے آ سکتی ہے، نہ اس سے مؤخر ہو سکتی ہے۔