(آیت 104) {وَمَانُؤَخِّرُهٗۤاِلَّالِاَجَلٍمَّعْدُوْدٍ:”مَعْدُوْدٍ“} کا معنی ہے گنا ہوا۔ گنی ہوئی چیز آخر ختم ہو جاتی ہے، یعنی قیامت کی مہلت گنتی کے چند دن ہیں، جیسے روزوں کے متعلق فرمایا: «{ اَيَّامًامَّعْدُوْدٰتٍ }»[البقرۃ: ۱۸۴]”گنے ہوئے چند دنوں میں۔“ اور وہ گنتی صرف اللہ کے علم میں ہے، قیامت نہ اس سے پہلے آ سکتی ہے، نہ اس سے مؤخر ہو سکتی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔