(آیت 1) {وَيْلٌلِّكُلِّهُمَزَةٍلُّمَزَةٍ:”هُمَزَةٍلُّمَزَةٍ“”هَمَزَيَهْمُزُهَمْزًا“} (ن،ض) اور{”لَمَزَيَلْمُزُلَمْزًا“} (ن، ض) سے مبالغے کے صیغے ہیں، دونوں کے معنی آپس میں اس قدر ملتے ہیں کہ بعض نے انھیں ہم معنی قرار دیا ہے اور بعض نے فرق کیا ہے۔ دونوں کے مفہوم میں ”اشارہ بازی، طعن اور عیب لگانا“ شامل ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: «وَلَاتُطِعْكُلَّحَلَّافٍمَّهِيْنٍ(10)هَمَّازٍمَّشَّآءٍبِنَمِيْمٍ»[القلم: 11،10]”ہر بہت قسمیں کھانے والے حقیر کی اطاعت نہ کر، جو بہت طعنہ مارنے والا (یا عیب لگانے والا)، چغلی میں بہت دوڑ دھوپ کرنے والا ہے۔“ اور فرمایا: «وَلَاتَلْمِزُوْۤااَنْفُسَكُمْ»[الحجرات: ۱۱]”اور تم آپس میں عیب نہ لگاؤ۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔