ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ التكاثر (102) — آیت 5

کَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡیَقِیۡنِ ؕ﴿۵﴾
ہرگز نہیں، کاش! تم جان لیتے، یقین کا جاننا۔ En
دیکھو اگر تم جانتے (یعنی) علم الیقین (رکھتے تو غفلت نہ کرتے)
En
ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5تا7){ كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْيَقِيْنِ …: لَتَرَوُنَّ رَاٰي يَرٰي رُؤْيَةً} (ف) (دیکھنا) سے جمع حاضر فعل مضارع معلوم بانون تاکید ثقیلہ ہے، تم ضرور بالضرور دیکھو گے۔ ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حاقہ کی آیت (۵۱) کی تفسیر۔ مسلمان اور کافر سبھی جہنم کو دیکھیں گے، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا» [مریم: ۷۱] تم میں سے ہر کوئی اس پر وارد ہوگا۔ پھر اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لیں گے، کوئی شک و شبہ نہیں رہے گا۔