(آیت 9){ اَفَلَايَعْلَمُاِذَابُعْثِرَمَافِيالْقُبُوْرِ:} یعنی انسان اپنے رب کی ناشکری کرتاہے اور مال سے شدید محبت کی وجہ سے اپنے مالک کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے، تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب وہ سب کچھ نکال باہر پھینکا جائے گا جو قبروں میں ہے اور ان میں موجود تمام مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے نکال باہر کیا جائے گا؟ {”اَفَلَايَعْلَمُ“} (تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا) کا مطلب یہ ہے کہ کیا وہ اس وقت سے نہیں ڈرتا کہ اپنے مالک کو کیا جواب دے گا؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔