(آیت 11){ اِنَّرَبَّهُمْبِهِمْيَوْمَىِٕذٍلَّخَبِيْرٌ:} اس آیت پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ رب تعالیٰ تو ہمیشہ ہی بندوں کے حالات سے باخبرہے، پھر اس دن کو خاص کیوں فرمایا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس دن جب ظاہری اعضا سے سرزد ہونے والے اعمال کے علاوہ دلوں کے اعمال ظاہر کرکے ان کی بھی جزا و سزا دی جائے گی، تو اگر پہلے کسی کو شک تھا تو اس دن وہ بھی دور ہو جائے گا کہ یقینا ان کا رب ان کے متعلق خوب خبر رکھنے والا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔