ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يونس (10) — آیت 79

وَ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ائۡتُوۡنِیۡ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیۡمٍ ﴿۷۹﴾
اور فرعون نے کہا میرے پاس ہر ماہر فن جادوگر لے کر آؤ۔ En
اور فرعون نے حکم دیا کہ سب کامل فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ
En
اور فرعون نے کہا کہ میرے پاس تمام ماہر جادوگروں کو حاضر کرو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 79تا82) ➊ {وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِيْ …:} یہ قصہ تفصیل سے سورۂ اعراف میں گزر چکا ہے اور سورۂ طٰہٰ اور شعراء میں بھی آ رہا ہے۔
➋ { مَا جِئْتُمْ بِهِ السِّحْرُ:} یعنی جادو تو وہ ہے جو تم لائے ہو، نہ کہ وہ جو میں پیش کر رہا ہوں۔ { عَمَلَ الْمُفْسِدِيْنَ } جادوگروں کو مفسد قرار دیا ہے جو ایک مشرک ظالم اور خدائی کے دعوے دار کی حمایت محض دنیا کے لالچ میں کر رہے تھے۔
➌ { وَ يُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ:} اپنے کلمات (اپنی باتوں) کے ساتھ، یعنی ان وعدوں کے مطابق جو اس نے حق کو غالب کرنے کے متعلق کیے ہیں، حق کو سچا کر دیتا ہے۔ یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ چاہے تو اپنے کلمہ {كُنْ} کے ساتھ، یعنی اپنے کسی حکم کے ساتھ ظاہری اسباب کے بغیر بھی حق کو سچا کر دیتا ہے، یا اپنے کلمات کی برکت سے حق کو سچا کر دیتا ہے۔