ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يونس (10) — آیت 72

فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَمَا سَاَلۡتُکُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ ۙوَ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۷۲﴾
پھر اگر تم منہ موڑ لو تو میں نے تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگی، میری مزدوری نہیں ہے مگر اللہ پر اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں سے ہوجاؤں۔ En
اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں
En
پھر بھی اگر تم اعراض ہی کیے جاؤ تو میں نے تم سے کوئی معاوضہ تو نہیں مانگا، میرا معاوضہ تو صرف اللہ ہی کے ذمہ ہے اور مجھ کو حکم کیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے رہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 72) {فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ …:} یعنی اگر تم میری دعوت ٹھکرانے پر اصرار کرو تو میرا کچھ نقصان نہیں، کیونکہ میں نے تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگی۔ تمھارے نہ ماننے یا بے رخی کرنے سے میرے ثواب اور مزدوری میں کمی نہیں ہو گی، وہ میرے اللہ کے ذمے ہے، جو مجھے کبھی تمھارا محتاج نہیں ہونے دے گا۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۳۲) میری طرف سے تمھیں ایمان لانے کی دعوت بھی تمھارے ہی فائدے کے لیے ہے اور مجھے حکم ہے کہ مسلمین (حکم ماننے والوں) سے ہو جاؤں۔ معلوم ہوا کہ تمام انبیاء کا دین اسلام ہی تھا اور وہ سب مسلم تھے۔