دنیا میں تھوڑا سا فائدہ ہے، پھر ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے، پھر ہم انھیں بہت سخت عذاب چکھائیں گے، اس کی وجہ سے جو وہ کفر کرتے تھے۔
En
(ان کے لیے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو شدید عذاب (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے
(آیت 70) {مَتَاعٌفِيالدُّنْيَاثُمَّاِلَيْنَامَرْجِعُهُمْ …:} بس زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اللہ پر بہتان باندھ کر دنیا کا تھوڑا سا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ تنوین تقلیل کے لیے ہے، کیونکہ ساری دنیا بھی حاصل کر لیں تو وہ ختم ہونے والی ہے، لہٰذا نہایت کم اور بے وقعت ہے، پھر انھیں واپس تو ہمارے ہی پاس آنا ہے۔ {”اِلَيْنَا“} پہلے لانے سے حصر پیدا ہوا، جس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں اور نہیں جا سکتے، پھر ہم انھیں ان کی کفریات کی بہت سخت سزا چکھائیں گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔