ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يونس (10) — آیت 51

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ ؕ آٰلۡـٰٔنَ وَ قَدۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۵۱﴾
کیا پھر جوںہی وہ (عذاب) آپڑے گا تو اس پر ایمان لاؤگے؟ کیا اب! حالانکہ یقینا تم اسی کو جلدی طلب کیا کرتے تھے۔ En
کیا جب وہ آ واقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے (اس وقت کہا جائے گا کہ) اور اب (ایمان لائے؟) اس کے لیے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے
En
کیا پھر جب وه آہی پڑے گا اس پر ایمان لاؤ گے۔ ہاں اب مانا! حاﻻنکہ تم اس کی جلدی مچایا کرتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51){اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ …:} یعنی کیا جوں ہی وہ عذاب آگیا تو فوراً ایمان لے آؤ گے؟ ہاں، بے شک اس وقت ایمان لے آؤ گے مگر عذاب آنے پر ایمان کب قبول ہو گا۔ دیکھیے سورۂ مومن (۸۴، ۸۵)، یونس (91،90) اور نساء (۱۸) اس لیے تمھارا پہلے ایمان لانے کے بجائے پہلے عذاب کی جلدی مچانا بے کار ہے۔