ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يونس (10) — آیت 50

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُہٗ بَیَاتًا اَوۡ نَہَارًا مَّاذَا یَسۡتَعۡجِلُ مِنۡہُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۵۰﴾
کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر تم پر اس کا عذاب رات کو، یا دن کو آجائے تو مجرم اس میں سے کون سی چیز جلدی طلب کریں گے۔ En
کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے
En
آپ فرما دیجئے کہ یہ تو بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب رات کو آپڑے یا دن کو تو عذاب میں کون سی چیز ایسی ہے کہ مجرم لوگ اس کو جلدی مانگ رہے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 50) {قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ …: اَرَءَيْتُمْ } کا لفظی معنی تو یہی ہے کہ کیا تم نے دیکھا مگر اہل عرب اس سے مراد {اَخْبِرُوْنِيْ} لیتے ہیں، یعنی اگر تم نے دیکھا ہے تو بتاؤ۔ { بَيَاتًا } یعنی رات کو، گھر کو{ بَيْتٌ } اسی لیے کہتے ہیں کہ آدمی وہاں رات گزارتا ہے۔ یہ ان کے سوال { مَتٰي هٰذَا الْوَعْدُ } کا دوسرا جواب ہے، یعنی اگر بالفرض عذاب رات سوتے ہوئے یا دن کی مصروفیت میں یک لخت آگیا تو وہ کون سی میٹھی اور خوش گوار چیز ہے کہ مجرم جلد از جلد اس کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ تو نہایت تلخ اور ناقابل برداشت چیز ہے، اس کے آنے کے بعد ایمان لانا فائدہ مند نہیں ہو سکے گا اور آخرت میں دائمی عذاب سامنے ہے، پس جب حالت یہ ہے تو اس کے آنے کی کیوں جلدی مچا رہے ہیں۔