ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يونس (10) — آیت 41

وَ اِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقُلۡ لِّیۡ عَمَلِیۡ وَ لَکُمۡ عَمَلُکُمۡ ۚ اَنۡتُمۡ بَرِیۡٓـــُٔوۡنَ مِمَّاۤ اَعۡمَلُ وَ اَنَا بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۴۱﴾
اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے میرے لیے میرا عمل ہے اور تمھارے لیے تمھارا عمل، تم اس سے بری ہو جو میں کرتا ہوں اور میں اس سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو۔ En
اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کا جواب دہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں
En
اور اگر آپ کو جھٹلاتے رہیں تو یہ کہہ دیجئے کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل، تم میرے عمل سے بری ہو اور میں تمہارے عمل سے بری ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 41) {وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّيْ عَمَلِيْ …:} یعنی اگر وہ حجت پوری ہونے کے بعد بھی جھٹلانے پر اصرار کریں تو انھیں صاف کہہ دیں کہ مجھ پر قرآن اور اللہ کے احکام پہنچانے کا جو فریضہ عائد کیا گیا تھا، میں نے اسے کسی کمی یا زیادتی کے بغیر ادا کر دیا ہے، اگر تم اس پر ایمان لانے سے انکار کرو تو تم اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہو گے، مجھ پر اس کا کوئی بوجھ نہیں ہو گا۔ اس مفہوم کی چند مزید آیات کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۳۹)، آل عمران (۲۰)، شوریٰ (۱۵) اور سورۃ الکافرون مکمل۔