ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يونس (10) — آیت 34

قُلۡ ہَلۡ مِنۡ شُرَکَآئِکُمۡ مَّنۡ یَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ ؕ قُلِ اللّٰہُ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۳۴﴾
کہہ دے کیا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو پیدائش کی ابتدا کرتا ہو، پھر اسے دوبارہ بناتا ہو؟ کہہ دے اللہ ہی پیدائش کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ بناتا ہے، تو تم کہاں بہکائے جاتے ہو؟ En
(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ مخلوق کو ابتداً پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے؟ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اُکسے جارہے ہو
En
آپ یوں کہیے کہ کیا تمہارے شرکا میں کوئی ایسا ہے جو پہلی بار بھی پیدا کرے، پھر دوباره بھی پیدا کرے؟ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی دوباره بھی پیدا کرے گا۔ پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 34){قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآىِٕكُمْ مَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ …: تُؤْفَكُوْنَ اِفْكٌ} کا معنی ہے کسی کو کسی چیز سے پھیر دینا، ہٹا دینا۔ اس لیے جھوٹ اور بہتان کو بھی {اِفْكٌ} کہتے ہیں، کیونکہ اس میں بھی سننے والے کو اصل بات سے پھیر دیا جاتا ہے۔ یعنی آپ ان سے پوچھیں کیا تمھارا کوئی شریک ایسا ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہو، پھر اسے دوبارہ بنائے؟ جیسا کہ اللہ نے انسان کو مٹی سے، پھر نطفہ، پھر علقہ، غرض تمام منازل سے گزار کر پیدا کیا، اسی طرح ساری مخلوق کی ابتدا اس نے کی اور دوبارہ بھی وہی بنائے گا۔ وہ جواب میں خاموشی اختیار کریں گے، اگر کوئی ایسا شریک ہے تو اس کا نام لو۔ اب نہ وہ ایسے شریک کا نام لے سکتے ہیں، کیونکہ خود مان چکے ہیں کہ خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے اور نہ وہ یہ کہنے کے لیے تیار ہیں کہ ہمارے شرکاء میں سے کوئی ایسا نہیں، کیونکہ اس سے ان کے شرکاء کی حقیقت کھلتی اور ان کی بے بسی ظاہر ہوتی ہے، اس لیے وہ جواب ہی نہیں دیں گے۔ سو اگر وہ جواب نہ دیں تو آپ خود فرمائیں کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ ہے جو پہلے پیدا کرتا ہے دوبارہ بھی وہی اٹھائے گا۔ پھر اس کے باوجود تم کیسے گوارا کرتے ہو کہ سیدھے راستے، یعنی توحید کو چھوڑ کر صاف گمراہی، یعنی شرک کی طرف پھیر دیے جاؤ جو سراسر افک (جھوٹ) ہے۔