ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يونس (10) — آیت 17

فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۱۷﴾
پھر اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو اللہ پر کوئی جھوٹ باندھے، یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ مجرم لوگ فلاح نہیں پاتے۔ En
تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا پر جھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بےشک گنہگار فلاح نہیں پائیں گے
En
سو اس شخص سے زیاده کون ﻇالم ہوگا جو اللہ پرجھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتلائے، یقیناً ایسے مجرموں کو اصلاً فلاح نہ ہوگی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 17){فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى …:} یعنی اگر یہ قرآن میں نے خود تصنیف کر لیا ہے، جیسا کہ تم سمجھتے ہو تو میں نے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھا، جس سے بڑا کوئی گناہ نہیں، مگر اس کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا اوپر کے دلائل سے ثابت ہو چکا ہے، اس کے بعد بھی اگر تم نے اس کی آیات کو جھٹلایا تو تم سے بڑا ظالم اور گناہ گار کوئی نہیں اور ایسے گناہ گار اور مجرم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔