ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يونس (10) — آیت 101

قُلِ انۡظُرُوۡا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا تُغۡنِی الۡاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنۡ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾
کہہ تم دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ موجود ہے۔ اور نشانیاں اور ڈرانے والی چیزیں ان لوگوں کے کام نہیں آتیں جو ایمان نہیں لاتے۔ En
(ان کفار سے) کہو دیکھو تو زمین اور آسمانوں میں کیا کچھ ہے۔ مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کی نشانیاں اور ڈرواے کچھ کام نہیں آتے
En
آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں ﻻتے ان کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائده نہیں پہنچاتیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 101) ➊ {قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یعنی ایمان لانے کے لیے زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی توحید کی بے شمار نشانیاں موجود ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ كَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ [یوسف: ۱۰۵] اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے گزرتے ہیں اور وہ ان سے بے دھیان ہوتے ہیں۔ اور فرمایا: «{ وَ فِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ [الذاریات: ۲۰] اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں۔
➋ { وَ مَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، یعنی وہ لوگ جن کی قسمت ہی میں نہیں کہ وہ ایمان لائیں گے، انھیں نہ نشانیوں سے کچھ فائدہ ہوتا ہے نہ ڈرانے والی چیزوں یا ڈرانے والے پیغمبروں اور داعی حضرات سے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جو لوگ طے کر لیتے ہیں کہ چاہے کچھ ہو جائے ہم ہر گز اپنے باپ دادا کا راستہ چھوڑ کر ایمان نہیں لائیں گے، انھیں نشانیوں اور ڈرانے والے پیغمبروں سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ { النُّذُرُ نَذِيْرٌ } کی جمع ہے، ڈرانے والے معجزے ہوں یا آیات یا پیغمبر۔