آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں ﻻتے ان کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائده نہیں پہنچاتیں
En
(آیت 101) ➊ {قُلِانْظُرُوْامَاذَافِيالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ:} یعنی ایمان لانے کے لیے زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی توحید کی بے شمار نشانیاں موجود ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَكَاَيِّنْمِّنْاٰيَةٍفِيالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِيَمُرُّوْنَعَلَيْهَاوَهُمْعَنْهَامُعْرِضُوْنَ }»[یوسف: ۱۰۵]”اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے گزرتے ہیں اور وہ ان سے بے دھیان ہوتے ہیں۔“ اور فرمایا: «{ وَفِيالْاَرْضِاٰيٰتٌلِّلْمُوْقِنِيْنَ }»[الذاریات: ۲۰]”اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں۔“ ➋ { وَمَاتُغْنِيالْاٰيٰتُوَالنُّذُرُعَنْقَوْمٍلَّايُؤْمِنُوْنَ:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، یعنی وہ لوگ جن کی قسمت ہی میں نہیں کہ وہ ایمان لائیں گے، انھیں نہ نشانیوں سے کچھ فائدہ ہوتا ہے نہ ڈرانے والی چیزوں یا ڈرانے والے پیغمبروں اور داعی حضرات سے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جو لوگ طے کر لیتے ہیں کہ چاہے کچھ ہو جائے ہم ہر گز اپنے باپ دادا کا راستہ چھوڑ کر ایمان نہیں لائیں گے، انھیں نشانیوں اور ڈرانے والے پیغمبروں سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ {”النُّذُرُ“”نَذِيْرٌ“} کی جمع ہے، ڈرانے والے معجزے ہوں یا آیات یا پیغمبر۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔