اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں، اس کے بعد کہ ان کے لیے صاف ظاہر ہوگیا کہ یقینا وہ جہنمی ہیں۔
En
پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں
پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وه رشتہدار ہی ہوں اس امر کے ﻇاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں
En
113۔ 1 اس کی تفسیر صحیح بخاری میں اس طرح ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عم بزرگوار ابو طالب کا آخری وقت آیا تو آپ ان کے پاس گئے جبکہ ان کے پاس ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بھی بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا چچا جان لَااِلٰہاِلَّا اللہ پڑھ لیں، تاکہ میں اللہ کے ہاں آپ کے لئے تکرار پیش کرسکوں، ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ نے کہا ' اے ابو طالب کیا عبدالمطلب کے مذہب سے انحراف کرو گے؟ (یعنی مرتے وقت یہ کیا کرنے لگے ہو؟ حتٰی کہ اسی حال میں ان کا انتقال ہوگیا) نبی نے فرمایا، جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے روک نہیں دیا جائے گا میں آپ کے لئے استغفار کرتا رہوں گا، جس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا کرنے سے روک دیا گیا ہے (صحیح بخاری) سورة قصص کی آیت انک لا تھدی من احببت بھی اسی سلسلے میں نازل ہوئی۔ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کی اجازت طلب فرمائی، جس پر یہ آیت نازل ہوئی (مسند احمد ج 5، ص 355) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مشرک قوم کے لیے جو دعا فرمائی تھی اللھم اغفر لقومی فانھم لایعلمون۔ یا اللہ میری قوم بےعلم ہے اس کی مغفرت فرما دے، یہ آیت کے منافی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کا مطلب ان کے لیے ہدایت کی دعا ہے۔ یعنی وہ میرے مقام و مرتبہ سے ناآشنا ہے، اسے ہدایت سے نواز دے تاکہ وہ مغفرت کی اہل ہوجائے۔ اور زندہ کفار و مشرکین کے لیے ہدایت کی دعا کرنی جائز ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔