ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 68

لَوۡ لَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمۡ فِیۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۶۸﴾
اگر اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی بات نہ ہوتی، جو پہلے طے ہو چکی تو جو کچھ تم نے لیا اس کی وجہ سے تمھیں بہت بڑا عذاب پہنچتا۔ En
اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا
En
اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

68۔ 1 اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ لکھی ہوئی بات کیا تھی ْ بعض نے کہا اس سے مال غنیمت کی حلت مراد ہے یعنی چونکہ یہ نوشتہ تقدیر تھا کہ مسلمانوں کے لئے مال غنیمت حلال ہوگا، اس لئے تم نے فدیہ لے کر ایک جائز کام کیا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو فدیہ لینے کی وجہ سے تمہیں عذاب عظیم پہنچتا۔ بعض نے اہل بدر کی مغفرت اس سے مراد لی ہے، بعض نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کو عذاب میں مانع ہونا مراد لیا ہے وغیرہ۔