ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 61

وَ اِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۶۱﴾
اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تو بھی اس کی طرف مائل ہو جااور اللہ پر بھروسا کر۔ بے شک وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے
En
اگر وه صلح کی طرف جھکیں تو تو بھی صلح کی طرف جھک جا اور اللہ پر بھروسہ رکھ، یقیناً وه بہت سننے جاننے واﻻ ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

61۔ 1 اگر حالات جنگ کے بجائے صلح کے متقاضی ہوں اور دشمن بھی مائل بہ صلح ہو تو صلح کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر صلح سے دشمن کا مقصد دھوکا اور فریب ہو تب بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ پر بھروسہ رکھیں، یقینا اللہ دشمن کے فریب سے بھی محفوظ رکھے گا، اور وہ آپ کو کافی ہے۔ لیکن صلح کی یہ اجازت ایسے حالات میں ہے جب مسلمان کمزور ہوں اور صلح میں اسلام اور مسلمان کا مفاد ہو لیکن جب اس کے برعکس ہوں، مسلمان قوت و وسائل میں ممتاز ہوں اور کافر کمزور تو اس صورت میں صلح کے بجائے کافروں کی قوت کو توڑنا ضروری ہے۔