ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 23

وَ لَوۡ عَلِمَ اللّٰہُ فِیۡہِمۡ خَیۡرًا لَّاَسۡمَعَہُمۡ ؕ وَ لَوۡ اَسۡمَعَہُمۡ لَتَوَلَّوۡا وَّ ہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۲۳﴾
اور اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی جانتا تو انھیں ضرور سنوا دیتا اور اگر وہ انھیں سنوا دیتا تو بھی وہ منہ پھیر جاتے، اس حال میں کہ وہ بے رخی کرنے والے ہوتے۔ En
اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے
En
اور اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق دے دیتا اور اگر ان کو اب سنا دے تو ضرور روگردانی کریں گے بے رخی کرتے ہوئے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

23۔ 1 یعنی ان کے سماع کو نافع بناکر ان کو فہم صحیح عطا فرما دیتا، جس سے وہ حق کو قبول کرلیتے اور اسے اپنالیتے۔ لیکن چونکہ ان کے اندر خیر یعنی حق کی طلب ہی نہیں ہے، اس لئے وہ فہم صحیح سے محروم ہیں۔ 23۔ 2 پہلے سماع سے مراد سماع نافع ہے۔ اس دوسرے سماع سے مراد مطلق سماع ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ انہیں حق بات سنوا بھی دے تو چونکہ ان کے اندر حق کی طلب ہی نہیں ہے، اس لئے وہ بدستور اس سے اعراض کریں گے۔