ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الجن (72) — آیت 24

حَتّٰۤی اِذَا رَاَوۡا مَا یُوۡعَدُوۡنَ فَسَیَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَضۡعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا ﴿۲۴﴾
(یہ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب وہ چیز دیکھ لیں گے جس کاان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو ضرور جان لیں گے کہ کون ہے جو مدد گار کے اعتبار سے زیادہ کمزور ہے اور جو تعداد میں زیادہ کم ہے؟ En
یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ (دن) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب ان کو معلوم ہو جائے گا کہ مددگار کس کے کمزور اور شمار کن کا تھوڑا ہے
En
(ان کی آنکھ نہ کھلے گی) یہاں تک کہ اسے دیکھ لیں جس کا ان کو وعده دیا جاتا ہے پس عنقریب جان لیں گے کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی جماعت کم ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

24۔ 1 یا مطلب یہ ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کی عداوت اور اپنے کفر پر مصر رہیں گے، یہاں تک کہ دنیا یا آخرت میں وہ عذاب دیکھ لیں گے، جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ 24۔ 2 یعنی اس وقت ان کو پتہ لگے گا کہ مومنوں کا مددگار کمزور ہے یا مشرکوں کا؟ اہل توحید کی تعداد کم ہے یا غیر اللہ کے پجاریوں کی۔ مطلب یہ ہے کہ پھر مشرکین کا تو سرے سے کوئی مددگار ہی نہیں ہوگا اور اللہ کے ان گنت لشکروں کے مقابلے میں ان مشرکین کی تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہوگی۔