ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ المعارج (70) — آیت 44

خَاشِعَۃً اَبۡصَارُہُمۡ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ ذٰلِکَ الۡیَوۡمُ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿٪۴۴﴾
ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی، ذلت انھیں گھیرے ہوئے ہو گی، یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ En
ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی اور ذلت ان پر چھا رہی ہو گی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا
En
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی، ان پر ذلت چھا رہی ہو گی، یہ ہے وه دن جس کا ان سے وعده کیا جاتا تھا En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

44۔ 1 جس طرح مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے کرتوتوں کا علم ہوتا ہے۔ 44۔ 2 یعنی سخت ذلت انہیں اپنی لپیٹ میں لے رہی ہوگی اور ان کے چہرے مارے خوف کے سیاہ ہوں گے۔ 44۔ 3 یعنی رسولوں کی زبانی اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے۔