ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 90

وَ قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ لَئِنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَیۡبًا اِنَّکُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿۹۰﴾
اور اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جنھوں نے کفر کیا بے شک اگر تم شعیب کے پیچھے چلے تو بے شک تم اس وقت ضرور خسارہ اٹھانے والے ہو۔
اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے، کہنے لگے (بھائیو) اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بےشک تم خسارے میں پڑگئے
اور ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ اگر تم شعیب (علیہ السلام) کی راه پر چلو گے تو بےشک بڑا نقصان اٹھاؤ گے

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

90۔ 1 اپنے آبائی مذہب کو چھوڑنا اور ناپ تول میں کمی نہ کرنا، یہ ان کے نزدیک خسارے والی بات تھی درآنحالیکہ ان دونوں باتوں میں ان ہی کا فائدہ تھا، لیکن دنیا والوں کی نظر میں نفع عاجل (دنیا میں فوراً حاصل ہونے والا نفع) ہی سب کچھ ہوتا ہے، جو ناپ تول میں ڈنڈی مار کر انہیں حاصل ہو رہا تھا، وہ اہل ایمان کی طرح آخرت کے نفع آجل (دیر میں ملنے والا نفع) کے لئے اسے کیوں چھوڑتے۔