ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 87

وَ اِنۡ کَانَ طَآئِفَۃٌ مِّنۡکُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِہٖ وَ طَآئِفَۃٌ لَّمۡ یُؤۡمِنُوۡا فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰی یَحۡکُمَ اللّٰہُ بَیۡنَنَا ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ الۡحٰکِمِیۡنَ ﴿۸۷﴾
اور اگر تم میں سے کچھ لوگ اس پر ایمان لے آئے ہیں جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے اور کچھ لوگ ایمان نہیں لائے تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔
اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے۔ اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی۔ تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
اور اگر تم میں سے کچھ لوگ اس حکم پر، جس کو دے کر مجھ کو بھیجا گیا، ایمان لے آئے ہیں اور کچھ ایمان نہیں ﻻئے ہیں تو ذرا ٹھہر جاؤ! یہاں تک کہ ہمارے درمیان اللہ فیصلہ کئے دیتا ہے اور وه سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

87۔ 1 کفر پر صبر کرنے کا حکم نہیں ہے بلکہ اس کے لئے تہدید اور سخت وعید ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اہل حق کا اہل باطل پر فتح و غلبہ ہی ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (فَتَرَبَّصُوْٓا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ) 9۔ التوبہ:52)