ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 193

وَ اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی لَا یَتَّبِعُوۡکُمۡ ؕ سَوَآءٌ عَلَیۡکُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡہُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴿۱۹۳﴾
اور اگر تم انھیں سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو وہ تمھارے پیچھے نہیں آئیں گے، تم پر برابر ہے کہ تم نے انھیں بلایا ہو، یا تم خاموش ہو۔
اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو
اور اگر تم ان کو کوئی بات بتلانے کو پکارو تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں تمہارے اعتبار سے دونوں امر برابر ہیں خواه تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

193۔ 1 یعنی تمہاری بتلائی ہوئی بات پر عمل نہیں کریں گے۔ ایک دوسرا مفہوم یہ ہے اگر تم ان سے رشدو ہدایت طلب کرو تو وہ تمہاری بات نہیں مانیں گے۔ نہ تمہیں کوئی جواب دیں گے (فتح القدیر)