ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 190

فَلَمَّاۤ اٰتٰہُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَہٗ شُرَکَآءَ فِیۡمَاۤ اٰتٰہُمَا ۚ فَتَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۹۰﴾
پھر جب اس نے انھیں تندرست بچہ عطا کیا تو دونوں نے اس کے لیے اس میں شریک بنا لیے جو اس نے انھیں عطا کیا تھا، پس اللہ اس سے بہت بلند ہے جو وہ شریک بناتے ہیں۔
جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں۔ جو وہ شرک کرتے ہیں (خدا کا رتبہ) اس سے بلند ہے
سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اوﻻد دے دی تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وه دونوں اللہ کے شریک قرار دینے لگے، سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

190۔ 1 شریک قرار دینے سے مراد یا تو بچے کا نام ایسا رکھنا ہے، مثلاً امام بخش، پیراں دیتا، عبدالشمس، بندہ علی وغیرہ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بچہ فلاں بزرگ، فلاں پیر کی (نعوذ باللہ) نظر کرم کا نتیجہ ہے۔ یا پھر اس اپنے عقیدے کا اظہار کرکے کہ ہم فلاں بزرگ فلاں قبر پر گئے تھے جس کے نتیجہ میں بچہ پیدا ہوا ہے، جو بدقسمتی سے مسلمان عوام میں بھی عام ہیں۔ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ شرک کی تردید فرما رہا ہے۔