ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 184

اَوَ لَمۡ یَتَفَکَّرُوۡا ٜ مَا بِصَاحِبِہِمۡ مِّنۡ جِنَّۃٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۸۴﴾
اور کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی میں جنون کی کون سی چیز ہے؟ وہ تو ایک کھلم کھلا ڈرانے والے کے سوا کچھ نہیں۔
کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق محمد (ﷺ) کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ وہ تو ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں
کیا ان لوگوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ ان کے ساتھی کو ذرا بھی جنون نہیں وه تو صرف ایک صاف صاف ڈرانے والے ہیں

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

184۔ 1 صَاحِب سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے جن کی بابت مشرکین کبھی ساحر اور کبھی مجنون (نعوذ باللہ) کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تمہارے عدم تفکر کا نتیجہ ہے وہ تو تمہارا پیغمبر ہے جو ہمارے احکام پہنچانے والا اور ان سے غفلت اور اعراض کرنے والوں کو ڈرانے والا ہے۔