تو ان میں سے جنھوں نے ظلم کیا، انھوں نے بات کو اس کے خلاف بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی، تو ہم نے ان پر آسمان سے ایک عذاب بھیجا، اس وجہ سے کہ وہ ظلم کرتے تھے۔
مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ ظلم کرتے تھے
سو بدل ڈاﻻ ان ﻇالموں نے ایک اور کلمہ جو خلاف تھا اس کلمہ کے جس کی ان سے فرمائش کی گئی تھی، اس پر ہم نے ان پر ایک آفت سماوی بھیجی اس وجہ سے کہ وه حکم کو ضائع کرتے تھے
162۔ 1 160 تا 162 آیات میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں، یہ وہ ہیں جو پارہ الم، سورة بقرہ کے آغاز میں بیان کی گئی ہیں۔ وہاں ان کی تفصیل ملاحظہ فرمائی جائے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔