ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 152

اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ سَیَنَالُہُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ ذِلَّۃٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُفۡتَرِیۡنَ ﴿۱۵۲﴾
بے شک وہ لوگ جنھوں نے بچھڑا بنا لیا عنقریب انھیں ان کے رب کی طرف سے بھاری غضب پہنچے گا اور بڑی رسوائی دنیا کی زندگی میں اور ہم جھوٹ باندھنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔
(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
بےشک جن لوگوں نے گوسالہ پرستی کی ہے ان پر بہت جلد ان کے رب کی طرف سے غضب اور ذلت اس دنیوی زندگی ہی میں پڑے گی اور ہم افترا پردازوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

152۔ 1 اللہ کا غضب یہ تھا کہ توبہ کے لئے قتل ضروری قرار پایا۔ اور اس سے قبل جب تک جیتے رہے، ذلت اور رسوائی کے مستحق قرار پائے۔ 152۔ 2 اور یہ سزا ان ہی کے لئے خاص نہیں ہے، جو بھی اللہ پر افترا (بہتان) کرتا ہے، اس کو ہم یہی سزا دیتے ہیں۔