ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیۡۤ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ رَاَوۡا اَنَّہُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ۙ قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ یَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا وَ یَغۡفِرۡ لَنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾
اور جب وہ پشیمان ہوئے اور انھوں نے دیکھا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے ہیں، تو انھوں نے کہا یقینا اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو ہم ضرور ہی خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے
اور جب نادم ہوئے اور معلوم ہوا کہ واقعی وه لوگ گمراہی میں پڑ گئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمارا گناه معاف نہ کرے تو ہم بالکل گئے گزرے ہو جائیں گے

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

149۔ 1 سقط فی أیدھم۔ محاورہ ہے جس کے معنی نادم ہونا ہیں۔ یہ ندامت موسیٰ ؑ کی واپسی کے بعد ہوئی، جب انہوں نے آکر اس پر لعنت ملامت کی۔ جیسا کہ سورة طٰہ ٰمیں ہے۔ یہاں اسے مقدم اس لئے کردیا گیا ہے کہ ان کا فعل اور قول اکٹھا ہوجائے۔ (فتح القدیر)