ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 135

فَلَمَّا کَشَفۡنَا عَنۡہُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤی اَجَلٍ ہُمۡ بٰلِغُوۡہُ اِذَا ہُمۡ یَنۡکُثُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾
پھر جب ہم ان سے عذاب کو اس وقت تک دور کر دیتے جسے وہ پہنچنے والے ہوتے تو اچانک وہ عہد توڑ دیتے تھے۔
پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے
پھر جب ان سے اس عذاب کو ایک خاص وقت تک کہ اس تک ان کو پہنچنا تھا ہٹا دیتے، تو وه فوراً ہی عہد شکنی کرنے لگتے

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

135۔ 1 یعنی ایک عذاب آتا تو اس سے تنگ آکر موسیٰ ؑ کے پاس آتے تو ان کی دعا سے ٹل جاتا تو ایمان لانے کی بجائے پھر اس کفر اور شرک پر جمے رہتے پھر دوسرا عذاب آجاتا پھر اسی طرح کرتے یوں کچھ کچھ وقفوں سے پانچ عذاب ان پر آئے لیکن ان کے دلوں میں جو فرعونیت اور دماغوں میں جو تکبر تھا وہ حق کی راہ میں ان کے لئے زنجیر پا بنا رہا اتنی اتنی واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود ایمان کی دولت سے محروم ہی رہے۔