ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الملك (67) — آیت 29

قُلۡ ہُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِہٖ وَ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡنَا ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ ہُوَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۹﴾
کہہ دے وہی بے حد رحم والا ہے، ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اسی پر بھروسا کیا، تو تم عنقریب جان لوگے کہ وہ کون ہے جو کھلی گمراہی میں ہے۔ En
کہہ دو کہ وہ جو (خدائے) رحمٰن (ہے) ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسا رکھتے ہیں۔ تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں کون پڑ رہا تھا
En
آپ کہہ دیجئے! کہ وہی رحمٰن ہے ہم تو اس پر ایمان ﻻچکے اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے؟ En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 یعنی وحدانیت پر، اسی لئے اس کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے۔ 29۔ 2 کسی اور پر نہیں۔ ہم اپنے تمام معاملات اسی کے سپرد کرتے ہیں، کسی اور کے نہیں جیسے مشرک کرتے ہیں۔ یعنی تم ہو یا ہم اس میں کافروں کے لیے سخت وعید ہے۔