ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ المنافقون (63) — آیت 1

اِذَا جَآءَکَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا نَشۡہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُ اللّٰہِ ۘ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُہٗ ؕ وَ اللّٰہُ یَشۡہَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ لَکٰذِبُوۡنَ ۚ﴿۱﴾
جب منافق تیرے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیںہم شہادت دیتے ہیںکہ تو یقینا اللہ کا رسول ہے اور اللہ جانتا ہے کہ تو یقینا اس کا رسول ہے اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یہ منافق یقینا جھوٹے ہیں۔ En
(اے محمدﷺ) جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو (از راہ نفاق) کہتے ہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ بےشک خدا کے پیغمبر ہیں اور خدا جانتا ہے کہ درحقیقت تم اس کے پیغمبر ہو لیکن خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کے لحاظ سے) جھوٹے ہیں
En
تیرے پاس جب منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم اس بات کے گواه ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اس کے رسول ہیں۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

تیرے پاس جب منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں (1) اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اللہ کے رسول ہیں (2) اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعًا جھوٹے ہیں (3)