ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الانعام (6) — آیت 47

قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ بَغۡتَۃً اَوۡ جَہۡرَۃً ہَلۡ یُہۡلَکُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۷﴾
کہہ کیا تم نے دیکھا اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک یا کھلم کھلا آجائے، کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی ہلاک کیا جائے گا؟ En
کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بےخبری میں یا خبر آنے کے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا؟
En
آپ کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ پڑے خواه اچانک یا اعلانیہ تو کیا بجز ﻇالم لوگوں کے اور بھی کوئی ہلاک کیا جائے گا En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

47۔ 1 بغتۃ بیخبر ی سے مراد رات اور جھرۃ خبر داری سے دن مراد ہے جسے سورة یونس میں بَیَاتًا اَوْ نَہَارًا سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی دن کو عذاب آجائے یا رات کو یا پھر بغتۃ وہ عذاب ہے جو اچانک بغیر تمہید اور مقدمات کے آجائے اور جھرۃ وہ عذاب جو تمہید اور مقدمات کے بعد آئے۔ یہ عذاب جو قوموں کی ہلاکت کے لئے آتا ہے۔ ان ہی پر آتا ہے جو ظالم ہوتی ہیں یعنی کفر و طغیان اور معصیت الٰہی میں حد سے تجاوز کر جاتی ہیں۔