ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الانعام (6) — آیت 29

وَ قَالُوۡۤا اِنۡ ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا وَ مَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِیۡنَ ﴿۲۹﴾
اور انھوں نے کہا نہیں ہے یہ (زندگی) مگر ہماری دنیا کی زندگی اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں۔ En
اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے
En
اور یہ کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیاوی زندگی ہماری زندگی ہے اور ہم زنده نہ کئے جائیں گے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 یہ بعث بعد الموت (مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے) کا انکار ہے جو ہر کافر کرتا ہے اور اس حقیقت سے انکار ہی دراصل ان کے کفر و عصیان کی سب سے بڑی وجہ ہے ورنہ اگر انسان کے دل میں صحیح معنوں میں اس عقیدہ آخرت کی صداقت راسخ ہوجائے تو کفر و جرم کے راستے سے فوراً تائب ہوجائے۔