ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الانعام (6) — آیت 107

وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَاۤ اَشۡرَکُوۡا ؕ وَ مَا جَعَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿۱۰۷﴾
اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شریک نہ بناتے، اور ہم نے تجھے ان پر محافظ نہیں بنایا اور نہ تو ان پر کوئی نگہبان ہے۔ En
اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم کو ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا۔ اور نہ تم ان کے داروغہ ہو
En
اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان کا نگران نہیں بنایا۔ اور نہ آپ ان پر مختار ہیں! En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

17۔ 1 اس نکتے کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے کہ اللہ کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی رضا تو اسی میں ہے کہ اس کے ساتھ شرک نہ کیا جائے۔ تاہم اس نے اس پر انسانوں کو مجبور نہیں کیا کیونکہ جبر کی صورت میں انسان کی آزمائش نہ ہوتی، ورنہ اللہ تعالیٰ کے پاس تو ایسے اختیارات ہیں کہ وہ چاہے تو کوئی انسان شرک کرنے پر قادر ہی نہ ہو سکے (مزید دیکھئے سورة بقرہ آیت 253 اور سورة الانعام آیت 35 کا حاشیہ)۔ 17۔ 2 یہ مضمون بھی قرآن مجید میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی داعیانہ اور مبلغانہ حیثیت کی وضاحت ہے جو منصب رسالت کا تقاضا ہے اور آپ صرف اسی حد تک مکلف تھے اس سے زیادہ آپ کے پاس اگر اختیارات ہوتے تو آپ اپنے محسن چچا ابو طالب کو ضرور مسلمان کرلیتے جن کے قبول اسلام کی آپ شدید خواہش رکھتے تھے