ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ المائده (5) — آیت 34

اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَیۡہِمۡ ۚ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۳۴﴾
مگر جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر قابو پائو تو جان لو کہ اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ En
ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو میں آ جائیں توبہ کر لی تو جان رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
ہاں جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر قابو پالو تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بخشش اور رحم و کرم واﻻ ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

34۔ 1 یعنی گرفتار ہونے سے پہلے اسلامی حکومت کی اطاعت کا اعلان کردیں تو پھر انہیں معاف کردیا جائے، مذکورہ سزائیں نہیں دی جائیں گی۔ لیکن پھر اس امر میں اختلاف ہے کہ سزاؤں کی معافی کے ساتھ انہوں نے قتل کر کے یا مال لوٹ کر یا ابرو ریزی کر کے بندوں پر جو دست درازی کی یہ جرائم بھی معاف ہوجائیں گے یا ان کا بدلہ لیا جائے گا، بعض علماء کے نزدیک معاف نہیں ہوں گے بلکہ ان کا قصاص لیا جائے گا۔ (امام شوکانی اور امام ابن کثیر کا رجحان اس طرف ہے کہ مطلقاً انہیں معاف کردیا جائے گا اور اسی کو ظاہر آیت کا مقتضی بتلایا ہے۔ البتہ گرفتاری کے بعد توبہ سے جرائم معاف نہیں ہوں گے۔ وہ مستحق سزا ہوں گے۔