ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ محمد (47) — آیت 21

طَاعَۃٌ وَّ قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ ۟ فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ ۟ فَلَوۡ صَدَقُوا اللّٰہَ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ﴿ۚ۲۱﴾
حکم ماننا اور اچھی بات کہنا، پھر جب حکم لازم ہو جائے تو اگر وہ اللہ سے سچے رہیں تو یقینا ان کے لیے بہتر ہو۔ En
(خوب کام تو) فرمانبرداری اور پسندیدہ بات کہنا (ہے) پھر جب (جہاد کی) بات پختہ ہوگئی تو اگر یہ لوگ خدا سے سچے رہنا چاہتے تو ان کے لئے بہت اچھا ہوتا
En
فرمان کا بجا ﻻنا اور اچھی بات کا کہنا۔ پھر جب کام مقرر ہو جائے، تو اللہ کے ساتھ سچے رہیں تو ان کے لئے بہتری ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

21۔ 1 یعنی جہاد کی تیاری مکمل ہوجائے اور وقت جہاد آجائے۔ 21۔ 2 یعنی اگر اب بھی نفاق چھوڑ کر، اپنی نیت اللہ کے لئے خالص کرلیں، یا رسول کے سامنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑنے کا عہد کرتے ہیں، اس میں اللہ سے سچے رہیں۔ 21۔ 3 یعنی نفاق اور مخالفت کے مقابلے میں توبہ و اخلاص کا مظاہرہ بہتر ہے۔