ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ محمد (47) — آیت 18

فَہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ بَغۡتَۃً ۚ فَقَدۡ جَآءَ اَشۡرَاطُہَا ۚ فَاَنّٰی لَہُمۡ اِذَا جَآءَتۡہُمۡ ذِکۡرٰىہُمۡ ﴿۱۸﴾
تو وہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ ان پر اچانک آجائے، پس یقینا اس کی نشانیاں آچکیں، پھر ان کے لیے ان کی نصیحت کیسے ممکن ہو گی ، جب وہ ان کے پاس آجائے گی۔ En
اب تو یہ لوگ قیامت ہی کو دیکھ رہے ہیں کہ ناگہاں ان پر آ واقع ہو۔ سو اس کی نشانیاں (وقوع میں) آچکی ہیں۔ پھر جب وہ ان پر آ نازل ہوگی اس وقت انہیں نصیحت کہاں (مفید ہوسکے گی؟)
En
تو کیا یہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وه ان کے پاس اچانک آجائے یقیناً اس کی علامتیں تو آچکی ہیں، پھر جبکہ ان کے پاس قیامت آجائے انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا؟ En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18۔ 1 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بجائے خود قرب قیامت کی ایک علامت ہے جیسا کہ آپ نے بھی فرمایا بعثت انا والساعۃ کھاتین۔ صحیح بخاری۔ میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کر کے واضح فرمایا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں باہم ملی ہوئی ہیں اسی طرح قیامت میرے ذرا سا بعد ہے۔ 18۔ 2 یعنی جب قیامت اچانک آجائے گی تو کافر کس طرح نصیحت حاصل کرسکیں گے؟ مطلب ہے اس وقت اگر وہ توبہ کریں گے بھی تو مقبول نہیں ہوگی اس لئے اگر توبہ کرنی ہے تو یہی وقت ہے ورنہ وہ وقت بھی آسکتا ہے کہ ان کی توبہ بھی غیر مفید ہوگی۔