ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ محمد (47) — آیت 14

اَفَمَنۡ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ کَمَنۡ زُیِّنَ لَہٗ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ ﴿۱۴﴾
تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہے اس شخص کی طرح ہے جس کے لیے اس کے برے اعمال مزین کر دیے گئے اور انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی؟ En
بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے رستے پر (چل رہا) ہو وہ ان کی طرح (ہوسکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کرکے دکھائی جائیں اور جو اپنی خواہشوں کی پیروی کریں
En
کیا پس وه شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل پر ہو اس شخص جیسا ہو سکتا ہے؟ جس کے لئے اس کا برا کام مزین کر دیا گیا ہو اور وه اپنی نفسانی خواہشوں کا پیرو ہو؟ En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14، 1 برے کام سے مراد شرک اور معصیت ہیں، مطلب وہی ہے جو پہلے بھی متعدد جگہ گزر چکا ہے کہ مومن و کافر، مشرک و موحد اور نیکوکار اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے ایک کے لئے اللہ کے ہاں اجر وثواب اور جنت کی نعمتیں ہیں، جب کہ دوسرے کے لئے جہنم کا ہولناک عذاب۔ اگلی آیت میں دونوں کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔ پہلے اس جنت کی خوبیاں اور محاسن جس کا وعدہ متقین سے ہے۔