ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 78

لَقَدۡ جِئۡنٰکُمۡ بِالۡحَقِّ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَکُمۡ لِلۡحَقِّ کٰرِہُوۡنَ ﴿۷۸﴾
بلاشبہ ہم تو تمھارے پاس حق لے کر آئے ہیں اور لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے ہیں۔ En
ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن تم اکثر حق سے ناخوش ہوتے رہے
En
ہم تو تمہارے پاس حق لے آئے لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق سے نفرت رکھنے والے تھے؟ En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

78۔ 1 یہ اللہ کا ارشاد ہے یا فرشتوں کا ہی قول بطور نیابت الٰہی ہے۔ جیسے کوئی افسر مجاز ' ہم ' کا استعمال حکومت کے مفہوم میں کرتا ہے۔ اکثر سے مراد کل ہے یعنی سارے ہی جہنمی، یا پھر اکثر سے مراد رؤسا اور لیڈر ہیں۔ باقی جہنمی ان کے پیروکار ہونے کی حیثیت سے اس میں شامل ہونگے۔ حق سے مراد، اللہ کا وہ دین اور پیغام ہے جو وہ پیغمبروں کے ذریعے سے ارسال کرتا رہا۔ آخری حق قرآن اور دین اسلام ہے۔