ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 65

فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَیۡنِہِمۡ ۚ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ یَوۡمٍ اَلِیۡمٍ ﴿۶۵﴾
پھر کئی گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا، سو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب سے بڑی ہلاکت ہے۔ En
پھر کتنے فرقے ان میں سے پھٹ گئے۔ سو جو لوگ ظالم ہیں ان کی درد دینے والے دن کے عذاب سے خرابی ہے
En
پھر (بنی اسرائیل کی) جماعتوں نے آپس میں اختلاف کیا، پس ﻇالموں کے لیے خرابی ہے دکھ والے دن کی آفت سے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

65۔ 1 اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں، یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ میں نقص نکالا اور انہیں نعوذ باللہ ولد الزنا قرار دیا، جب کہ عیسائیوں نے غلو سے کام لے کر انہیں معبود بنا لیا۔ یا مراد عیسائیوں ہی کے مختلف فرقے ہیں جو حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں، ایک انہیں ابن اللہ، دوسرا اللہ اور ثالث ثلاثہ کہتا اور ایک فرقہ مسلمانوں ہی کی طرح انہیں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تسلیم کرتا ہے۔