48۔ 1 ان نشانیوں سے وہ نشانیاں مراد ہیں جو طوفان، ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون وغیرہ کی شکل میں یکے بعد دیگرے انہیں دکھائیں گئیں، جن کا تذکرہ سورة اعراف، آیات۔ (فَاَرْسَلْنَاعَلَيْهِمُالطُّوْفَانَوَالْجَرَادَوَالْقُمَّلَوَالضَّفَادِعَوَالدَّمَاٰيٰتٍمُّفَصَّلٰتٍفَاسْتَكْبَرُوْاوَكَانُوْاقَوْمًامُّجْرِمِيْنَ 133 وَلَمَّاوَقَعَعَلَيْهِمُالرِّجْزُقَالُوْايٰمُوْسَىادْعُلَنَارَبَّكَبِمَاعَهِدَعِنْدَكَ ۚ لَىِٕنْكَشَفْتَعَنَّاالرِّجْزَلَنُؤْمِنَنَّلَكَوَلَنُرْسِلَنَّمَعَكَبَنِيْٓاِسْرَاۗءِيْلَ 134ۚ فَلَمَّاكَشَفْنَاعَنْهُمُالرِّجْزَاِلٰٓياَجَلٍهُمْبٰلِغُوْهُاِذَاهُمْيَنْكُثُوْنَ 135) 7۔ الاعراف:135-133) میں گزر چکا ہے۔ بعد میں آنے والی ہر نشانی پہلی نشانی سے بڑی چڑھی ہوتی، جس سے حضرت موسیٰ ؑ کی صداقت واضح سے واضح تر ہوجاتی۔ 48۔ 2 مقصد ان نشانیوں یا عذاب سے یہ ہوتا تھا کہ شاید وہ تکذیب سے باز آجائیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔